Home News شوہر کی اجازت کے بغیر ماں باپ سےملنے سے نکاح ٹوٹ جاتا...

شوہر کی اجازت کے بغیر ماں باپ سےملنے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے

آپ کا شوہر آپ سے یہ کہے کہ آپ نے ماموں سے بات نہیں کرنی خالہ سے بات نہیں کرنی لوگوں سے بات کرنے سے روکے حتیٰ کہ وہ یہ بات کہہ دے کہ آپ نے ماں باپ سے ملنے کیلئے بھی میری اجازت کے بغیر نہیں جانا ۔آج ہم اکثر لوگوں کو دیکھتے ہیں وہ یہ غلطی کرتے ہیں اس کا خمیازہ گھر کے برباد ہونے کی صورت میں ملتا ہے اگر شوہر یہ کہے کہ آپ نے ماں باپ کے گھر نہیں جانا اس سے بات نہیں کرنی اس صورت عورت غصے میں آجاتی ہے

کہ تم کون ہوتے ہو میرے والدین سے روکنے والا تمہیں کس نے اختیار دیا ۔ ماں باپ کا بڑا مرتبہ اور مقام ہے لیکن شادی کے بعد عورت کو حق پہنچتا ہے کہ سب سے زیادہ حقوق عورت کا اس کے خاوند کا ہے تمام رشتہ داروں سے جب خاوند کا حق سب سے زیادہ ہے تو پھر عورت کو خاوند کی بات پر ترجیح دینی چاہیے ۔ آپ کو دو مثالیں دیں گے کہ ایک صحابی رسول ﷺ تھے وہ گھر سے باہر گئے اور عورت سے کہہ کر گئے کہ آپ نے گھر سے باہر نہیں جانا ۔وہ چلے گئے پیچھے سے انکی بیوی کو اطلاع ملی آپ کے والد صاحب ہیں وہ بیمار ہیں آکر ان کی تیمار داری کرلیں تو صحابیہ رسول ﷺ کے پاس بھیجا کہ یا رسول اللہﷺ میرے والد بیمار ہیں اور میرے خاوند کا حکم ہے

کہ میں گھر سے باہر نہ جاؤں تو میرے لیے کیا حکم ہے اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا آپ گھر میں ہی ٹھہریں وہ گھر میں رہ گئیں اس دوران ان کو اطلاع ملی کہ اب والد صاحب فوت ہوگے ہیں۔ تو اب تو آجاؤ پھر ان صحابیہ ؓ نے اللہ کے نبیﷺ کی خدمت میں یہی سوال رکھا کہ یا رسول اللہﷺ اب میرے والد صاحب فوت ہوگے ہیں ان کے ج۔نازے میں جاؤں کے نہ جاؤں تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے خاوند نے منع کیا ہے تو اس وجہ سے تم گھر میں رہو اورتم باہر نہ جاؤ دیکھیں وہ صحابیہ باپ کی تیمارداری پر بھی نہیں گئیں اور ف۔وتگی پر بھی نہیں گئیں کیونکہ ان کے شوہر تو باہر گئے ہوئے رابطہ تو تھا نہیں کہ موبائل کے ذریعے رابطہ کریں اگر اجازت لینی ہوتی کئی کئی دنوں کے بعد خط پہنچتے اور آتا پیغام کئی کئی دن لگ جایا کرتے ۔ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا آپ نے اپنی خاوند کی تلقین پر عمل کرتے ہوئے اپنے والد کی بیماری پر نہیں گئیں اور ف۔وتگی پر نہیں گئیں

تواللہ تعالیٰ نے اس کی برکت سے تمہارے والد کی بخشش فرمادی ہے ۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اندر عورتیں کہتی ہیں ہر بات خاوند کی نہیں مانیں گے یہ بات سچ ہے کہ ہر بات خاوند کی نہیں ماننے والی نہیں ہوتی ۔ اگر آپ سے خاوند کہے کہ اس سے بات نہ کرو تو اس سے بات نہ کرو ۔اگرآپ اپنے خاوند کی نافرمانی کرو گی تو اللہ تعالیٰ نگاہ میں آپ نافرمان ہونگی اگر خاوند کو پتا چل گیا کہ میرے منع کرنے کے باوجود بھی فلاں عورت سے باتیں کررہی اس صورت کے اندر آپ کے گھر میں ف۔ساد ک۔ھڑا ہوجائیگا۔ جو آپ کے گھر کے سکون کو برباد کرکے رکھ دیگا۔اگر شوہر نے اجازت نہیں دی ماں باپ سے ملنے کی تو ماں باپ آپ سے آکر مل سکتے ہیں۔ شادی کے بعد آپ پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہے ۔کوئی ظ۔الم شوہر نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ماں باپ سے ملنے سے روکے۔