Home News عمران خان کے کارندے جیل میں آئے، انہوں نے کہا مجھے زمین...

عمران خان کے کارندے جیل میں آئے، انہوں نے کہا مجھے زمین پر سلانا ہے، عام قیدیوں کی طرح رکھنا ہے


چارسدہ ( آن لائن ) پاکستان مسلم ن کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزاب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ رنگ روڈ منصوبے کی منصوبہ بندی ہمارے دور میں مکمل ہو چکی تھی ، عمران خان نے خود رنگ روڈ منصوبے میں توسیع کی منظوری دی بعد میں شور مچا دیا ، آج بھی شریف خاندان جیلیں کاٹ رہا ہے کیا یہ ڈیل ہے؟ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کی بات کریں تو ہمیں چور ڈاکو کہا جا تا ہے ، جہانگیر ترین اور عمران خان کا معاملہ اندرونی معاملہ ہے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا ،

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جمعرات کو چارسد ہ میں بیگم نسیم ولی خان کی وفات پر ان کے خاندان سے اظہار تعزیت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بیگم نسیم ولی خان بہت نڈر اور بہادرخاتون تھیں مرحومہ نے پاکستان بھر میں سیاسی جدو جہد کی وہ کے پی اسمبلی میں پہلی منتخب رکن تھیں ان کی وفات پر دکھ ہو ا ان کی تعزیت کیلئے آئے ہیں اے این کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں لازوال ہیں خیبر پختون خواہ کے ہرفرد نے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا

۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے پہلی رات لاہور جیل میں لے جایا گیا تو عمران خان خود لاہور آئے ، ان کے کارندے خود آئے جن کا میں نام لینا یہاں مناسب نہیں سمجھتا، انہوں نے یہاں آ کر براہ راست جیل اتھارٹیز کو ہدایات دیں کہ اس کو زمین پر سلانا تاکہ اس کی کمر کو اور تکلیف پہنچے، اس کو عام قیدیوں کے ساتھ لے جائو اور کھانا اس کو جیل والا دو۔ انہوں نے کہا کہ کیا میں پہلی بار گرفتار ہو ا ہوں ؟ پہلے مجھے 1996 میں گرفتار کیا گیا اور مجھے نواز شریف کے ساتھ اٹک جیل میں رکھا گیا ، لانڈھی جیل میں نوازشریف کے ساتھ جیل کاٹیمریم اور حمزہ نے جیل کاٹی اور آج بھی جیلیں کاٹ رہے ہیںکیا یہ ڈیل ہے ؟ مہنگائی سے عوام کی زندگی اجیر ن بنادی گئی ہے ملکی معشیت کا بیٹر ا غرق کر دیا ہے کورونا کی تیسری لہر ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت نے اس سے نمٹنے کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا اگر آج نوازشریف کی حکومت ہوتی تو ملک میں ایسے حالات نہ ہو تے، نوازشریف کی قیادت میں جب ڈینگی کا مقابلہ کیا تو ہمیں ڈینگی برادران کے طعنے دیئے گئے ۔ کورونا ویکسی نیشن کے اعتبار سے ہم بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی بہت پچھے ہیں جب ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کی بات جاتی ہے تو ہمیں چور ڈاکو کہا جاتا ہے انہوں نے دن رات چور ڈاکو کی گردان رٹی ہوئی ہے